پچھلے دنوں اسلام آباد میں ملت جعفریہ کا جو ملک گیر کنونشن ہوا تھا اس کا ایک بنیادی مقصد پاراچنار کے قبائلی علاقے کے مظلوم شہریوں کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرنا تھا جو گذشتہ کئی برسوں سے غزہ کے نہتے شہریوں کی طرح طالبان دہشت گردوں کے محاصرے میں ہیں۔ پاکستان کے اس دور افتادہ اور قبائلی علاقے کے شہریوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ انھوں نے ملکی اور غیر ملکی طالبان کا ساتھ دینے سے صاف انکار کردیا ہے۔ ایک مقامی شہری کے بقول پچھلے چار برسوں سے پاراچنار کے ہزاروں شہریوں پر راستے بند ہیں اور حتی پشاور آنے کے لئے انہیں افغانستان کا طویل راستہ طے کرنا پڑتا ہے اس دوران اگر کوئی مسافر، طالبان کے ہاتھ لگ جائے تو اسے نہایت بے دردی کے ساتھ شہید کردیا جاتا ہے۔تا ہم اب یہ خبر آئی ہے کہ طالبان اس علاقے میں نفوذ کرکے خودکش کاروائیوں کے لئے اسی علاقے کے شیعہ بچوں کو استعمال کرنے کا گھناؤنا اقدام کرنا چاہتے تھے تا ہم سیکورٹی فورسز کی بر وقت کاروائی کی بنا پر ان کی یہ سازش ناکام ہوگئی۔کراچی میں پچھلے بیس برس سے آباد پاراچنار کے اس کنبے کے لئے یہ خبر یقینا باعث مسرت و انبساط ہوگی کہ اسکا چشم و چراغ درندہ صفت انسانوں کے چنگل سے آزاد ہوگیا اور درجنوں بے گناہ انسانوں کی زندگیاں محفوظ ہوگئیں۔البتہ اب دیکھنا یہ کہ ان گرفتار دہشت گردوں اور خودکش حملوں کے ماسٹر مائنڈ کے ساتھ پاکستان کی عدلیہ کیا کرتی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110